مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات 2026: بی جے پی کی زبردست لہر، بی ایم سی پر قبضہ؛ ٹھاکرے خاندان کی 30 سالہ حکمرانی کا خاتمہ

مہاراشٹر کے 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاستی سیاست میں ایک نیا توازن قائم کر دیا ہے۔ 29 میونسپل کارپوریشنوں کی مجموعی 2,869 نشستوں میں سے بی جے پی نے 1,425 نشستیں جیت کر اپوزیشن کو زبردست شکست دی۔

انتخابات کا سب سے بڑا اور علامتی نتیجہ ممبئی سے سامنے آیا، جہاں بی جے پی نے ملک کے سب سے امیر بلدیاتی ادارے، بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)، پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ٹھاکرے خاندان کا تقریباً تین دہائیوں پر محیط غلبہ ختم ہو گیا۔

227 رکنی بی ایم سی میں بی جے پی نے 89 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ اس کی اتحادی شیو سینا (ایک ناتھ شندے گروپ) کو 29 نشستیں ملیں۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا 65 نشستوں تک محدود رہی۔ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) نے چھ نشستیں جیتیں۔ کانگریس نے ونچت بہوجن آغاڑی کے ساتھ اتحاد میں 24 نشستیں حاصل کیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کو آٹھ نشستیں ملیں، جبکہ این سی پی (اجیت پوار گروپ) نے تین، سماج وادی پارٹی نے دو اور شرد پوار کی قیادت والی این سی پی صرف ایک نشست پر کامیاب ہو سکی۔

بی ایم سی پر بی جے پی کا کنٹرول سیاسی اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف مالی طور پر انتہائی مستحکم ادارہ ہے بلکہ ممبئی کی انتظامی اور ترقیاتی پالیسیوں کے تعین میں بھی اس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ طویل عرصے سے شیو سینا کا مضبوط قلعہ سمجھی جانے والی بی ایم سی میں یہ تبدیلی مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑے سیاسی اشارے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بی جے پی نے پونے میں بھی پوار خیمے کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پونے میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی نے 119 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی۔ اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی 27 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ شرد پوار گروپ کی این سی پی کو محض تین نشستیں مل سکیں۔ کانگریس یہاں 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے یہ نتائج آنے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے لیے بھی اہم اشارے دے رہے ہیں۔ شہری ووٹروں میں بی جے پی کی مضبوط گرفت اور اپوزیشن کی بکھری ہوئی حکمتِ عملی ان نتائج میں صاف جھلکتی ہے۔

بی جے پی قیادت نے ان نتائج کو ’’اچھے نظم و نسق اور ترقی کی جیت‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج کا جائزہ لینے اور تنظیم کو مضبوط بنانے کی بات کہی ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست میں یہ عوامی فیصلہ آنے والے دنوں میں نئے سیاسی سميكرن اور تبدیلیوں کی بنیاد رکھتا دکھائی دے رہا ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور