جھارکھنڈ میں مشتبہ قتل کے بعد مرشدآباد میں ہنگامہ، مزدور علاءالدین کی موت پر راستے بند

جھارکھنڈ کے پلامو ضلع میں ایک مقامی مہاجر مزدور کی مشتبہ حالات میں موت کے بعد مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے قومی شاہراہ اور ریلوے لائن کو کئی گھنٹوں کے لیے بلاک کر دیا، جس سے کولکاتا اور شمالی بنگال کے درمیان رابطہ معطل ہو گیا اور مسافر و تجارتی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ واقعہ بیلڈانگا علاقے میں سامنے آیا، جہاں 30 سالہ علاءالدین شیخ، جو سوجاپور کے کمار پور گاؤں کے رہائشی تھے اور جھارکھنڈ میں پانچ سال سے کام کر رہے تھے، اپنے کرایہ کے کمرے میں لٹکا ہوا پایا گیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دیا، لیکن خاندان اور مقامی لوگوں نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔

خاندان کا دعویٰ ہے کہ علاءالدین کو مارا پیٹا گیا اور گلا دبا کر قتل کیا گیا، پھر لاش کو فندے میں لٹکا کر خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار ان کی بنگالی ہونے کی وجہ سے ہراساں کیا گیا اور “بنگلہ دیشی” کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل علاءالدین نے اپنے گھر والوں کو فون پر بتایا تھا کہ انہیں خطرہ محسوس ہو رہا ہے اور وہ باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔

جب لاش ان کے آبائی گاؤں پہنچی، تو مقامی لوگوں نے شدید غصے میں قومی شاہراہ پر ٹائر جلا کر اور ریلوے ٹریک پر لکڑیاں رکھ کر ٹریفک بلاک کر دیا۔ سڑک اور ریلوے کی آمد و رفت تقریباً پانچ سے آٹھ گھنٹے تک معطل رہی، جس سے مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی لوگ بسوں اور ٹرینوں میں پھنس گئے۔ پولیس نے حالات کنٹرول کرنے کی کوشش کی، لیکن احتجاج کافی پرتشدد ہو چکا تھا۔

احتجاج کے دوران کچھ جگہوں پر پولیس گاڑیوں اور انفارمیشن سنٹر کو نقصان پہنچا۔ کم از کم بارہ افراد زخمی ہوئے، جن میں کچھ صحافی بھی شامل ہیں۔ ایک خاتون رپورٹر اور ان کے کیمرہ آپریٹر پر مبینہ حملہ ہوا، جن کا علاج مقامی ہسپتال میں کیا گیا۔

مقامی انتظامیہ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے مظاہرین سے بات چیت کر کے حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی، اور بالآخر ریلوے اور سڑک کے راستے بحال کیے گئے۔ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور مجسٹریٹ نے یقین دہانی کرائی کہ قتل کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا۔

سیاسی سطح پر بھی اس معاملے نے تنازع پیدا کیا ہے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے مقتول کے خاندان سے ملاقات کی اور جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ سے کیس کی سنجیدگی سے جانچ کی اپیل کی۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے ریاستی انتظامیہ پر بھی سوال اٹھائے۔

وزیراعلیٰ نے امن قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے، لیکن قانون اور امن کے معاملات میں سیاست کو بالاتر نہیں ہونے دینا چاہیے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی مشتبہ موت کا معاملہ ہے بلکہ یہ مہاجر مزدوروں کی حفاظت، شناخت کی بنیاد پر امتیاز، اور سماجی کشیدگی جیسے حساس مسائل پر قومی سطح پر بحث کو جنم دے رہا ہے۔ مرشدآباد کی سڑکوں پر غصہ ختم ہونے کے بعد بھی مقامی لوگوں کی عدالت اور انتظامیہ سے انصاف کی توقع شدید برقرار ہے۔

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو