مدراس ہائی کورٹ (مدورائی بنچ) نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بغیر کسی درج شدہ ایف آئی آر کے پولیس کے پاس کسی صحافی کو طلب کرنے یا اس سے تفتیش کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہوتا۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے جاری نوٹس کو منسوخ کرتے ہوئے اسے قانونی عمل کے غلط استعمال قرار دیا۔
ہائی کورٹ کے جج سنندر موہن کی سنگل بنچ نے یہ فیصلہ دفعہ ۴۸۲ کے تحت سنایا، جس میں پولیس کی جانب سے صحافی وِمل چناپن کو بھیجا گیا نوٹس کالعدم قرار دیا گیا۔ یہ نوٹس پولیس نے بھارتی شہری تحفظ ضابطہ ۲۰۲۳ کی دھارا ۳۵(۳) کے تحت جاری کیا تھا۔
پولیس نے موقف اختیار کیا کہ یہ نوٹس ۲۰۲۳ میں درج ایک کیس سے متعلق ہے، جس میں فوجداری ضابطہ کی دھارا ۲۹۴(ب)، ۳۲۳ اور ۵۰۶(۱) کے علاوہ مظالم کی روک تھام ایکٹ ۱۹۸۹ کی بعض دفعات کے تحت تفتیش جاری تھی۔ تاہم، ریاست کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کی تفتیش پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے اور حتمی رپورٹ بھی جمع کر دی گئی ہے۔
صحافی نے عدالت میں استدلال کیا کہ نوٹس میں کیس کی کوئی واضح تفصیل نہیں تھی اور نہ ہی بتایا گیا کہ انہیں کس حیثیت (گواہ، مشتبہ یا ملزم) سے طلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی کسی بات کو توہین آمیز یا ہتک آمیز سمجھا جائے، تو پولیس کو پہلے نیا مقدمہ درج کرنا چاہیے، اس کے بعد ہی تفتیش کا حق ہوگا۔
عدالت نے کہا کہ شہری تحفظ ضابطہ کی دھارا ۳۵(۱)(ب) صرف ان حالات کو بیان کرتی ہے جن میں پولیس افسر بغیر وارنٹ کے کسی شخص کو گرفتار کر سکتا ہے، مگر یہ کسی شخص کو طلب کرنے یا تفتیش کرنے کا اختیار نہیں دیتی جب تک کہ اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ ہو۔ لہٰذا، جاری شدہ نوٹس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا اور اسے منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں اگر کوئی نیا مقدمہ درج ہوتا ہے اور قانونی عمل کے تحت صحافی کی موجودگی ضروری ہوتی ہے، تو پولیس قانون کے مطابق قانونی اقدامات کر سکتی ہے۔
وکیل آر۔ کرونانی دھی نے درخواست گزار کی جانب سے دلائل پیش کیے، جبکہ سرکاری وکیل کے۔ سنجے گاندھی نے ریاست کا موقف پیش کیا۔