اڈیشہ کے ضلع بالاسور میں مبینہ گائے کی اسمگلنگ کے شبہے میں ایک 35 سالہ مسلم نوجوان کو ہجوم کی جانب سے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقتول کی شناخت ایس کے مکندر کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بدھ کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب وہ ایک پک اپ وین میں سفر کر رہا تھا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، پک اپ وین جئے دیو قصبہ کی سمت سے آ رہی تھی۔ اسی دوران راستے میں کچھ افراد نے گاڑی کو زبردستی روک لیا اور اس میں سوار ڈرائیور اور ایس کے مکندر پر حملہ کر دیا۔ الزام ہے کہ حملہ آوروں نے دونوں کو بے دردی سے زد و کوب کیا۔ شدید طور پر زخمی مکندر کو پولیس کی جانب سے بالاسور ضلع اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔
واقعے سے متعلق ایک مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے، جس میں حملہ آوروں کو ایس کے مکندر سے زبردستی ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگواتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس ویڈیو کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ اس واقعے کی اطلاع سب سے پہلے مکٹوب میڈیا نے دی تھی۔
معاملے میں پولیس کی ابتدائی کارروائی کو لے کر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پولیس نے پہلے ایک ابتدائی ایف آئی آر درج کی، جس میں اس واقعے کو سڑک حادثہ قرار دیا گیا۔ اس ایف آئی آر کے مطابق، پک اپ وین مبینہ طور پر تیز رفتاری میں تھی اور توازن بگڑنے کے باعث سڑک کنارے الٹ گئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کے موقع پر پہنچنے تک ڈرائیور کو اسپتال بھیجا جا چکا تھا اور جائے وقوعہ سے ایک گائے برآمد ہوئی، جسے گو شالہ منتقل کر دیا گیا۔
بعد ازاں مقتول کے بھائی ایس کے جتیندر کی شکایت پر ایک دوسری ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ پانچ افراد نے پک اپ وین کو روک کر ایس کے مکندر پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ شکایت کے مطابق، پولیس کی پیٹرولنگ ٹیم موقع پر پہنچی اور زخمی مکندر کو بالاسور ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔
دوسری ایف آئی آر کی بنیاد پر پولیس نے پانچ ملزمان کے خلاف بھارتی نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ 103(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جو ہجوم کے ذریعے قتل سے متعلق ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا اس حملے میں مزید افراد شامل تھے یا نہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ریاست میں مویشیوں کی نقل و حمل کے نام پر ہونے والی مبینہ موب لنچنگ کے واقعات پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ایک ہی معاملے میں درج دو مختلف ایف آئی آرز میں سامنے آنے والے متضاد حقائق کے سبب پولیس کے کردار پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تاحال ان دونوں ایف آئی آرز کے درمیان فرق کو واضح کرنے والا کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
معاملے کی تفتیش جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔