بہار انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کی واضح شکست کے بعد، اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو آج پٹنہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ پٹنہ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ نئی حکومت کے پہلے 100 دنوں میں کسی بھی معاملے پر سوال نہیں اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عرصہ مثبت سیاست دیکھنے اور حکومت کے وعدوں کا جائزہ لینے کے لیے ہوگا۔
تیجسوی یادو نے کہا، “سب سے پہلے ہم نئی حکومت کے 100 دن کے کام کاج کا مشاہدہ کریں گے۔ اس دوران ہم ان کی پالیسی اور فیصلوں پر کچھ نہیں کہیں گے۔ ہم مثبت سیاست کرنے والے لوگ ہیں۔ 100 دن کے بعد ہی حکومت کے بارے میں کسی بھی قسم کا بیان دیں گے۔”
انہوں نے نئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، “ملک اور ریاست کے عوام جانتے ہیں کہ اس انتخابات میں نئی حکومت نے کس سازش کے تحت کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ تمام مشینری اور مالی وسائل کی جیت ہے۔ یہ جمہوریت کی جیت نہیں بلکہ نظام کی جیت ہے۔”
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ حکومت نے ہر ضلع میں چار سے پانچ صنعتیں قائم کرنے اور خواتین کو دو لاکھ روپے دینے کے وعدے کیے تھے۔ اس کے علاوہ ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ “ہم پہلے دیکھیں گے کہ یہ وعدے کتنے پورے ہو رہے ہیں، پھر ہی کوئی رائے دیں گے۔”
تیجسوی یادو کی یہ واپسی بہار کی سیاست میں نیا موڑ لا سکتی ہے۔ ان کے بیانات کے بعد حکمران جماعت کے رہنماؤں کی ردعمل پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ تیجسوی نے واضح کہا کہ مشین اور مالی طاقت کے بل پر قائم نئی حکومت کا جائزہ 100 دن بعد لیا جائے گا، جس سے سیاسی ماحول میں نئی حرارت آنے کا امکان ہے۔