جھارکھنڈ کے ضلع گوڈڈا میں پیش آئے ہجومی تشدد کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے پپو انصاری کے اہلِ خانہ سے سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت پارٹی کے جھارکھنڈ ریاستی صدر اور ضلع پریشد کے رکن محمد ہنزیلہ شیخ نے کی۔ اس موقع پر پارٹی قائدین نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات کے دوران پارٹی رہنماؤں نے واقعے سے متعلق تمام حقائق کی تفصیلی جانکاری حاصل کی اور اس بہیمانہ، ظالمانہ اور غیر انسانی عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ وفد نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ پارٹی قانونی جدوجہد میں پوری مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی صدر محمد حنظلہ شیخ نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت اور قانون و نظم و نسق کی ناکامی کے سبب اس طرح کے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہجومی تشدد جیسے جرائم جمہوریت اور آئین دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
متاثرہ خاندان سے ملاقات کے بعد پارٹی کے وفد نے ریاستی حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ پپو انصاری کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور معاملے کی سماعت تیز رفتار عدالت میں کرا کے مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے کا مالی معاوضہ دینے اور خاندان کے ایک فرد کو اس کی اہلیت کے مطابق سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ریاستی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان مطالبات پر جلد سنجیدگی نہیں دکھائی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی تو پارٹی ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر جمہوری تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔
اس وفد میں پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری (تنظیمی امور) شمیم اختر، مرکزی عاملہ کے رکن عمر فاروق، حافظ سلام، ایڈووکیٹ عبد الحنان، مرکزی عاملہ کے رکن اور گوڈڈا ضلع کے انچارج شاکر قاسمی، گوڈڈا ضلع کے جنرل سیکریٹری محمد امتیاز سمیت پارٹی کے کئی عہدیداران اور مقامی کارکنان شامل تھے۔