“جمہوری احتجاج اور دہشت گردی کے درمیان لکیر دھندلا رہی ہے”: سپریم کورٹ کے فیصلے پر شرجیل امام کی تشویش

دہلی فسادات سے جڑے مبینہ “لارجر کنسیپریسی کیس” میں پی ایچ ڈی اسکالر اور نوجوان مفکر شرجیل امام کو پیر کے روز سپریم کورٹ سے ضمانت نہیں مل سکی۔ تاہم انہوں نے اپنے شریکِ ملزمان کو ضمانت ملنے کا خیرمقدم کیا ہے، مگر ساتھ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ شرجیل امام نے امید ظاہر کی کہ بالآخر سچ کی ہی فتح ہوگی، تاہم انہوں نے اپنی بیمار اور معمر والدہ کی جسمانی اور ذہنی حالت کے حوالے سے شدید فکر مندی کا اظہار کیا۔

شرجیل امام کا ردِعمل ان کے بھائی مزمّل امام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کیا۔ اپنے بیان میں شرجیل امام نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ دیگر ملزمان کو ضمانت مل گئی، لیکن ان کے ساتھ طویل عرصے سے ہونے والی ناانصافی کی انہوں نے سخت مذمت بھی کی۔

انہوں نے کہا، “جہاں تک ہمارا معاملہ ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ مجھے اور عمر خالد کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ہم نے بھارت کی حالیہ تاریخ کی شاید سب سے اہم عوامی تحریک کی تنظیم اور قیادت کی۔”

شرجیل امام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ منظم احتجاج کو مجرمانہ عمل میں تبدیل کرتا ہے اور عوامی تکلیف کو دہشت گردانہ سرگرمی کے طور پر دیکھنے کے رجحان کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے دہشت گردی اور جمہوری احتجاج و اختلاف کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔

مزمّل امام نے میڈیا میں گردش کرنے والے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا ہے کہ شرجیل امام کی ضمانت “16 جنوری 2020 کے مبینہ ’چکن نیک‘ خطاب” کی وجہ سے مسترد ہوئی۔ انہوں نے ان دعوؤں کو گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔

مزمّل امام کے مطابق اس خطاب کی بنیاد پر درج پانچ الگ الگ ایف آئی آر معاملات میں شرجیل امام کو پہلے ہی عدالتوں سے ضمانت مل چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے وقت واضح طور پر کہا تھا کہ شرجیل امام نے نہ تو کسی کو ہتھیار اٹھانے کے لیے اکسایا اور نہ ہی ان کی تقریر سے کوئی تشدد بھڑکا۔

ان کا کہنا ہے کہ 22 سے 24 فروری 2020 کے دہلی فسادات سے شرجیل امام کو جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ واقعات ان کی تقریر کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد پیش آئے تھے۔ اس کے باوجود اس خطاب کو عوامی تاثر کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزمّل امام نے کہا کہ شرجیل امام آج بھی شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف شاہین باغ کے پرامن احتجاج کی تنظیم میں کردار ادا کرنے کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے شاہین باغ کو بھارت کی تاریخ کی ایک تاریخی اور غیر متشدد عوامی مزاحمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھ سال بعد بھی بغیر مقدمہ چلے اس تحریک کو جرم کے طور پر پیش کیا جانا ہی اصل ناانصافی ہے۔

اپنے جذباتی پیغام میں شرجیل امام نے کہا کہ ذاتی طور پر ان کی سب سے بڑی تشویش ان کی معمر والدہ کی صحت ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے مایوس نہ ہونے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ وہ حراست میں رہتے ہوئے بھی اپنی فکری اور تعلیمی جدوجہد کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شرجیل امام نے اپنی بات ایک اردو شعر پر ختم کی:

“دل نااُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے،
لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے۔”

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو