بہار کے ضلع روہتاس میں واقع کیمور پہاڑیوں پر قائم تاریخی روہتاس گڑھ قلعے کی ایک پانچ سو سال پرانی مغلیہ دور کی مسجد ایک بار پھر خبروں میں ہے۔
غازی دروازے کے قریب موجود یہ تین گنبدوں والی مسجد مغل بادشاہ اکبر کے عہدِ حکومت میں 986 ہجری مطابق 1578 عیسوی میں حبش خان کے ذریعے تعمیر کرائی گئی تھی۔ وقت اور مسلسل نظراندازی کے باعث خستہ حال ہو چکی اس تاریخی وراثت کو بچانے کے لیے مقامی لوگوں کی جانب سے کی گئی پہل آج کے دور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مضبوط مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
پیر کے روز روہتاس گڑھ اور آس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہندو اور مسلم برادری کے لوگوں نے متحد ہو کر اس مسجد کے اطراف اُگی جھاڑیوں اور گندگی کی صفائی کی۔ اس شِرمدان (رضاکارانہ محنت) میں تقریباً پانچ درجن سے زائد افراد نے حصہ لیا۔ اس مہم کی قیادت سماجی کارکن کرشن سنگھ یادو، نگر پنچایت روہتاس کے چیف کونسلر نمائندہ توراب نیازی اور محکمۂ آثارِ قدیمہ کے افسر امریت جھا نے کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ قدم محض ایک عمارت کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ پورے ملک کو یہ پیغام دینے کے لیے ہے کہ انسانیت مذہب سے بالاتر ہے۔
مورخین کے مطابق یہ مسجد بہار میں مغلوں کے ذریعے تعمیر کی گئی ابتدائی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ معروف مورخ پروفیسر قیام الدین احمد نے اپنی کتاب Corpus of Arabic & Persian Inscriptions of Bihar میں اس مسجد کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ مسجد کے کتبے میں خود بادشاہ اکبر کا نام درج ہے۔ کتبے کے مطابق روہتاس گڑھ قلعہ 1576 میں مغل سپہ سالار شہباز خان کمبوہ کے قبضے میں آیا تھا، جب قلعہ دار سید محمد نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس کے ٹھیک دو برس بعد، 1578 میں اس مسجد کی تعمیر عمل میں آئی۔
تاریخی حوالوں میں حبش خان کا ذکر اکبرنامہ میں بھی ملتا ہے، جہاں انہیں بہار میں افغان بغاوت کے دوران ایک وفادار مغل افسر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ مسجد سے کچھ ہی فاصلے پر مغربی سمت واقع ایک گنبد نما مقبرہ حبش خان کا تھا، جو اب تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ مورخین اور سماجی کارکنوں کو اندیشہ ہے کہ اگر بروقت تحفظ نہ کیا گیا تو مسجد کی حالت بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتی ہے۔
صفائی مہم کے دوران محکمۂ آثارِ قدیمہ کے افسر امریت جھا نے کہا “مجھے فخر ہے کہ دونوں برادریوں کے لوگوں نے مل کر جو مثال قائم کی ہے وہ قابلِ یاد ہے۔ محکمہ کی جانب سے باقی ماندہ کام مکمل کیا جائے گا اور اس تاریخی وراثت کی نگرانی کی جائے گی۔”
مقامی لوگوں نے بہار حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف سیاحت کے فروغ کی بات کرتی ہے، مگر دوسری طرف ایسی تاریخی وراثتوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو رہی۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روہتاس گڑھ کی اس مسجد کے تحفظ کے لیے مستقل انتظامات کیے جائیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس مشترکہ وراثت کو دیکھ سکیں۔
ایسے وقت میں جب ملک میں نفرت اور تقسیم کی خبریں سرخیاں بن رہی ہیں، روہتاس گڑھ کی یہ پہل یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف پتھروں میں نہیں، بلکہ لوگوں کی مشترکہ کوششوں میں زندہ رہتی ہے۔