دہلی فسادات سے متعلق نام نہاد “لارجَر سازش” کیس میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن کی مرکزی کمیٹی نے گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شِفا اُر رحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت سے انکار کیے جانے کو “انتہائی چونکا دینے والا اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف” قرار دیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی باقاعدہ مقدمے کے پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید عمر خالد اور شرجیل امام کو راحت نہ ملنا، بھارتی آئین میں دی گئی شہری آزادیوں اور انصاف کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھاکپا(مالے) کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر ضمانت مسترد کی کہ ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت بادی النظر میں مقدمہ بنتا ہے، تاہم انہیں ایک سال بعد یا محفوظ گواہوں کی گواہی کے بعد دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی “اجازت” دی گئی ہے۔
بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ محض انصاف کا مذاق ہی نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے اختلافی آوازوں کو دانستہ طور پر دبانے کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ دہلی پولیس کی جانب سے من گھڑت الزامات کے تحت جیل بھیجے گئے نوجوانوں اور دانشوروں کے معاملے میں سپریم کورٹ سے شہری آزادیوں کے تحفظ کی امید تھی، لیکن عدالت اس کسوٹی پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔
بھاکپا(مالے) نے اس فیصلے کا موازنہ ایمرجنسی کے دور کے بدنام زمانہ اے ڈی ایم جبَلپور فیصلے سے کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کی طرح آج بھی عدلیہ نے شہری حقوق کے تحفظ کے بجائے اقتدار کے سامنے سرِتسلیم خم کیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس حکم کے ساتھ سپریم کورٹ خود کٹہرے میں کھڑی ہو گئی ہے۔
پارٹی نے ملک کی جمہوری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں، جمہوری اداروں کے زوال کی مزاحمت کریں اور ملک میں آئینی اقدار کی بحالی کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کریں۔