2 جنوری، 2026 کو اکلیرا قصبے میں ایک بزرگ شخص کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے پورے ملک میں خوف، غصہ اور انسانی حقوق کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 8 تا 10 نوجوان بزرگ کو زمین پر گرا کر لاٹھی اور گھٹنے کے وار سے بے رحمی سے مار رہے ہیں۔ ملزمان بار بار اس کے سر اور جسم پر حملے کر رہے ہیں، اور گلیوں میں اسے “بیف کھانے والا” اور “روہنگیا اور بنگلہ دیشی گھسپیٹھیا” جیسے توہین آمیز اور اشتعال انگیز الزامات سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ متاثرہ شخص کمزور آواز میں صرف رُکنے کی درخواست کرتا دکھائی دیتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ حملہ دن دہاڑے اکلیرا کی ایک عام سڑک پر پیش آیا۔ ویڈیو تقریباً 46 سیکنڈ کی ہے اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہزاروں بار شیئر کیا جا چکا ہے، جس سے عوام میں حفاظت اور قانون و انصاف کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
مقامی پولیس کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان یا گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، سماجی کارکنوں نے پولیس اور انتظامیہ سے فوری کارروائی، زخمی بزرگ کی شناخت، اور ملزمان کے خلاف سخت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
راجستھان میں گوشت کے تحفظ کے سخت قوانین اکثر “بیف کھانے کے شبے” پر ہونے والی تشدد کی وارداتوں سے منسلک کیے جاتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بھیڑ انصاف کے واقعات نہ صرف قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ ہیں، بلکہ فرقہ وارانہ تناؤ اور اقلیتوں کے لیے خوف میں اضافہ بھی کر رہے ہیں۔
اس حملے کے بعد سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور اسے حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے۔