ہند-نیپال بین الاقوامی سرحد پر واقع رکسول میتری پل کے قریب سشستر سیما بل (ایس ایس بی) نے غیر قانونی دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تین بنگلہ دیشی شہریوں اور ایک بھارتی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ چاروں افراد بہار کے راستے گورکھپور ہوتے ہوئے چنئی جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
ایس ایس بی کے مطابق بدھ کی رات سرحدی علاقے میں مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع ملنے کے بعد نگرانی سخت کر دی گئی تھی۔ اسی دوران چار مشتبہ افراد کو روکا گیا۔ پوچھ گچھ اور موبائل فون کی جانچ کے دوران اس بات کی تصدیق ہوئی کہ تین افراد بنگلہ دیشی شہری ہیں، جبکہ چوتھا شخص ان کی مدد کر رہا تھا۔
گرفتار بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت محمد فیروز، محمد صوفاج اور محمد علور رحمان کے طور پر ہوئی ہے۔ وہیں بھارتی شہری محمد سرفراز انصاری، ساکن چنپٹیا (مغربی چمپارن)، نے پوچھ گچھ میں رقم کے لالچ میں مدد کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
ایس ایس بی حکام کے مطابق ملزمان کے قبضے سے جعلی بھارتی شناختی دستاویزات بھی برآمد کی گئی ہیں۔ موبائل چیٹس اور لوکیشن ڈیٹا کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاروں پہلے بہار میں داخل ہوئے تھے اور وہاں سے گورکھپور جا کر چنئی جانے والے تھے۔
فی الحال تمام گرفتار افراد کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں اس بات کی جانچ کر رہی ہیں کہ دراندازی کا مقصد کیا تھا اور اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک تو سرگرم نہیں تھا۔
نئے سال اور خفیہ اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہار-نیپال سرحد کے رکسول، سونابرسہ اور جوگبانی جیسے اہم راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ایس ایس بی کی جانب سے سخت جانچ مہم جاری ہے اور نیپال سے آنے اور جانے والے مسافروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔
ایس ایس بی کے ڈائریکٹر جنرل سنجے سنگھل نے کہا کہ جوانوں کی مستعدی سے ایک بڑی سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے اور متعلقہ ریاستوں کی پولیس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔