انجیل چکما کے قتل کے خلاف جنتر منتر پر نارتھ ایسٹ کے طلبہ کا احتجاج، نسل پرستی پر سوالات

تریپورہ کے طالب علم انجیل چکما کے قتل کے خلاف بدھ کے روز دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر شمال مشرقی (نارتھ ایسٹ) خطے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ و طالبات نے شمع بردار احتجاج (کینڈل لائٹ وِجل) منعقد کیا اور انصاف و تحفظ کا مطالبہ کیا۔ شدید سردی کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور ملک میں نارتھ ایسٹ کے لوگوں کے خلاف جاری نسلی امتیاز پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “نارتھ ایسٹی ہونا جرم نہیں”، “ہم چینی نہیں، بھارتی ہیں” اور “انجیل چکما کو انصاف دو” جیسے نعرے درج تھے۔ احتجاج کا اہتمام مختلف نارتھ ایسٹ طلبہ تنظیموں نے کیا۔ منتظمین کے مطابق اس سلسلے میں ایک یادداشت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دیگر متعلقہ وزرا کو پیش کی جائے گی۔

احتجاج میں شریک طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ نارتھ ایسٹ سے آنے والے طلبہ کو ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص دہلی اور دہرادون جیسے شہروں میں، طویل عرصے سے نسلی گالیوں، ہراسانی اور تشدد کا سامنا ہے۔

میگھالیہ اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن، دہلی کی جنرل سیکریٹری چیلسی گیبل مومن نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اسے نسلی حملہ تسلیم نہ کرنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ‘مومو’، ‘چِنکی’ اور ‘چائنیز’ کہہ کر پکارنا عام بات ہے۔ یہ کوئی نئی مشکل نہیں۔ جب ہم اپنی زبان میں بات کرتے ہیں تب بھی ہمیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خواتین کے لیے حالات مزید غیر محفوظ ہیں۔”

دہرادون پولیس نے معاملے کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں نسلی گالیوں کے ٹھوس شواہد نہیں ملے اور تنازع ایک شراب کی دکان کے قریب ہونے والی باہمی جھڑپ سے جڑا تھا۔

تاہم طلبہ تنظیموں نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کے بیانات اور واقعات کا تسلسل پولیس کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انجیل چکما کے والد، جو اس وقت منی پور کے تنگنوپال ضلع میں تعینات بی ایس ایف کے جوان ہیں، نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹوں کو ‘چائنیز مومو’ کہہ کر نسلی گالیاں دی گئیں اور حملہ اسی کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق انجیل اپنے بھائی کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران ان پر چاقو اور دھاتی کڑے سے حملہ کیا گیا۔

انجیل چکما دہرادون کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایم بی اے کے آخری سال کے طالب علم تھے۔ 9 دسمبر کو ہونے والے حملے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور 17 دن تک اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد 26 دسمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔

دہلی یونیورسٹی نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس سوسائٹی کی جنرل سیکریٹری ابھلاشا ساکیہ نے کہا کہ یادداشت میں معاملے کی سی بی آئی جانچ، ملزمان کی فوری گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے مطالبات شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نارتھ ایسٹ کے طلبہ کے خلاف نسلی حملوں، جنسی ہراسانی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں، لیکن ان پر سنجیدہ کارروائی نہیں ہوتی۔

طلبہ تنظیموں نے ملک بھر میں نسل پرستی اور نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے کے لیے سخت مرکزی قانون بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

منتظمین نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس نے انہیں شمعیں جلانے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث مظاہرین میں ناراضگی دیکھی گئی۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ انجیل چکما کا قتل ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ آیا نارتھ ایسٹ کے لوگ اپنے ہی ملک میں محفوظ ہیں اور کیا وہ برابر کے حقوق کے ساتھ زندگی گزار پا رہے ہیں۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور