ترنمول کانگریس نے ووٹر فہرست میں مبینہ ہیر پھیر کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر سخت اور غیر معمولی تنقید کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کو ووٹنگ مشینوں کے ذریعے نہیں بلکہ ووٹر فہرست کی منصوبہ بند تشکیل و ترمیم کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہے۔
ترنمول کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اگر خصوصی گہری نظرِ ثانی کے بعد جاری ہونے والی حتمی ووٹر فہرست میں بے ضابطگیاں پائی گئیں تو پارٹی اس کے خلاف عدالتی دروازہ کھٹکھٹائے گی۔
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی قیادت میں دس رکنی وفد نے بدھ کے روز دارالحکومت دہلی میں چیف الیکشن کمشنر سمیت انتخابی کمیشن کے اراکین سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ووٹ نہ تو مشینوں کے ذریعے چرائے جا رہے ہیں اور نہ ہی پولنگ کے دوران، بلکہ ووٹر فہرست میں دانستہ تبدیلیوں کے ذریعے عوام کے حقِ رائے دہی کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں ابتدائی ووٹر فہرست میں ایک کروڑ چھتیس لاکھ ووٹروں کو منطقی تضاد کے نام پر مشتبہ قرار دیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو مشکوک قرار دینا نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ عوامی حقِ رائے دہی پر براہِ راست حملہ ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر مکمل شفافیت کے ساتھ تفصیلی سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے الزام عائد کیا کہ وفد کی جانب سے اٹھائے گئے بیشتر سوالات کے واضح یا تسلی بخش جوابات انتخابی کمیشن کی طرف سے فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق ووٹر فہرست کی نظرِ ثانی سے متعلق سوالات کو بار بار شہریت کے مباحث کی طرف موڑ دیا گیا، جبکہ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے سے متعلق خدشات پر محض رسمی طریقۂ کار کا حوالہ دے کر بات ٹال دی گئی۔
ترنمول کانگریس کے رہنما نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے رویّے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران ان کا طرزِ گفتگو سخت اور جارحانہ تھا۔ ابھیشیک بنرجی کے مطابق جب وفد نے اپنی بات رکھنی شروع کی تو چیف الیکشن کمشنر برہمی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں واضح طور پر بتایا کہ وہ نامزد عہدے پر فائز ہیں جبکہ میں عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندہ ہوں، اور اگر ان میں جرأت ہے تو ملاقات کی ویڈیو منظرِ عام پر لائیں اور میڈیا کے سامنے ہر الزام کا جواب دیں۔
ابھیشیک بنرجی نے اس پورے معاملے کو ایک منظم سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر بھی بالواسطہ طور پر انگلی اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیرِ تعاون امت شاہ ہیں، انہی کے ماتحت گیانیش کمار بطور سیکریٹری خدمات انجام دے چکے ہیں اور آج وہی گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا انتظامی خاکہ ہو سکتا ہے۔
ترنمول کانگریس نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ مغربی بنگال کے ووٹروں کو کسی بھی صورت میں نہ تو ذلیل ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی انہیں ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جائے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی کارروائی کے نام پر شہریوں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کیے گئے تو اس کی ہر سطح پر سیاسی اور قانونی مزاحمت کی جائے گی۔
اس وفد میں راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کے قائد ڈیرک اوبرائن، ارکانِ پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے، رتابرت بنرجی اور ممتا ٹھاکر کے علاوہ مغربی بنگال حکومت کے وزراء مانس بھوئیاں، پردیپ مجمدار اور چندریما بھٹاچاریہ شامل تھے۔
تاحال الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تفصیلی عوامی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔