بریلی,اتر پردیش میں 27 دسمبر کو ایک کیفے میں منعقدہ نرسنگ طالبہ کی سالگرہ کی تقریب پر حملہ، تشدد کی واردات میں تبدیل ہو گیا۔ مبینہ طور پر کچھ افراد نے “لو جہاد” کے الزامات لگا کر پارٹی میں موجود نوجوانوں پر حملہ کیا۔ پولیس نے اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور ایک نابالغ کو حفاظتی تحویل میں لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم اب بھی فرار ہے۔
پولیس کے مطابق، راجندر نگر کے کیفے میں طالبہ اور اس کے دوستوں کی جانب سے ذاتی تقریب منائی جا رہی تھی، جس میں کل 10 نوجوان شریک تھے، جن میں دو مسلمان نوجوان بھی شامل تھے۔ اچانک تقریب میں تقریباً 20–25 مشتبہ افراد پہنچ گئے اور ہنگامہ مچایا۔ ملزمان نے کیفے میں داخل ہو کر عملے اور مہمانوں کو دھمکایا، توڑ پھوڑ کی اور “لو جہاد” جیسے نعرے لگائے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تقریب میں کوئی غیر قانونی یا غیر مناسب سرگرمی نہیں ہو رہی تھی۔ ملزمان صرف مذہبی تفریق کی بنیاد پر مشتعل ہوئے۔ واقعے کی سی.سی.ٹی.وی فوٹیج، سوشل میڈیا ویڈیوز اور دیگر شواہد کی جانچ کے بعد پولیس نے پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ایک نابالغ کو تحویل میں لیا۔ ایف.آئی.آر میں کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں بھاری سزا کے قابل جرائم شامل ہیں۔
اگرچہ پولیس نے کچھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن مرکزی نام — رشب ٹھاکر اور دیپک پٹھک — اب بھی فرار ہیں۔ متاثرہ خاندان اور دیگر افراد نے پولیس سے اپیل کی ہے کہ فرار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔
واقعے کے بعد کیفے کے مالک نے بتایا کہ تشدد کے باعث اس کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا، گاہکوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوا اور کاروبار متاثر ہوا۔ مقامی کمیونٹی میں بھی اس واقعے کے سبب تشویش اور تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
اس واردات نے سماجی ہم آہنگی، نوجوانوں کی آزادی اور قانون و انتظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مکمل جانچ جاری ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔