کرسمس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دہلی کے کیتھیڈرل چرچ آف دی ریڈیمپشن میں دعائیہ تقریب میں شرکت کو جہاں حکومت کی طرف سے ہم آہنگی اور شمولیت کا پیغام قرار دیا گیا، وہیں ملک کے مختلف حصوں سے عیسائی برادری کے خلاف ہراسانی اور رکاوٹوں کی مسلسل خبروں نے اس پیغام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے کہا ہے کہ علامتی تقاریب اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہرا تضاد صاف نظر آ رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق دہلی، ہری دوار، مدھیہ پردیش، اڑیسہ اور کیرالہ سمیت کئی ریاستوں میں عیسائی خاندانوں کو پرامن طریقے سے کرسمس منانے کے دوران دباؤ، مداخلت اور خوف کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا کہنا ہے کہ ایک آئینی جمہوریت میں کسی بھی شہری کو اپنے مذہب اور عقیدے پر عمل کرنے سے روکنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مذہبی آزادی صرف اسٹیجوں اور تصویروں تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر شہری کو حقیقی تحفظ اور عزت کے ساتھ اپنے تہوار منانے کا حق حاصل ہو۔
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری محمد الیاس تھمبے نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ہر قسم کے تشدد، نفرت اور مذہبی جبر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے نفرت پھیلانے والے عناصر کی جوابدہی طے کرنے اور بھارت کی کثرت پسند اور سیکولر روح کی حقیقی حفاظت پر زور دیا۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عیسائی برادری سمیت تمام اقلیتوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں، تاکہ ملک میں مذہبی آزادی محض ایک آئینی وعدہ نہ رہے بلکہ زمینی حقیقت بن سکے۔