دادری کے محمد اخلاق قتل کیس میں منگل کو ایک اہم موڑ آیا۔ سورجپور ضلعی عدالت نے اتر پردیش حکومت کی درخواست مسترد کر دی، جس میں ملزمان کے خلاف تمام فوجداری الزامات ہٹانے کی استدعا کی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست کو قانونی بنیاد سے خالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سنگین معاملے میں الزامات ہٹانے کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ جج نے حکم دیا کہ کیس کو سب سے اہم کے طور پر نشان زد کیا جائے اور سماعت روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھی جائے۔ عدالت نے حکومت اور پولیس کو تمام شواہد محفوظ رکھنے اور گواہوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی۔
28 ستمبر 2015 کو بسہرہ گاؤں میں ایک ہجوم نے 50 سالہ محمد اخلاق پر حملہ کیا تھا۔ افواہ پھیل گئی تھی کہ انہوں نے گھر میں گائے کا گوشت رکھا اور عید کے بعد کھایا۔ اس حملے میں اخلاق جاں بحق ہو گئے اور ان کے بیٹے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں مذہبی عدم برداشت اور ہجوم تشدد پر بحث کو جنم دیا۔
متاثرہ خاندان نے پہلے ہی الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے حکومت کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ وکیلوں کا کہنا ہے کہ حساس معاملات کو بغیر قانونی کارروائی ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
وکیلوں اور سماجی کارکنوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہجوم تشدد کے خلاف ایک واضح پیغام گیا ہے کہ انصاف کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔