مسلمانوں پر ظلم و ستم سے متعلق سوال پر جامعہ میں سخت کارروائی، امتحانی پرچے کے سوال پر استاد معطل

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بی اے (آنرز) سوشل ورک کے سیمسٹر امتحان کے ایک سوال کو لیکر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے “بھارت میں مسلم اقلیتوں پر ظلم و ستم پر بحث کریں” کے سوال کو امتحانی پرچہ میں شامل کرنے پر سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے ایک استاد کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کیمپس میں علمی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

معطل استاد کی شناخت پروفیسر ویرندر بالا جی شہارے کے طور پر ہوئی ہے، جو تعلیمی سال 2025–26 کے لیے بی اے (آنرز) سوشل ورک، سیمسٹر-1 کے امتحان ‘بھارت میں سماجی مسائل’ کے پرچے کے سیٹر تھے۔ یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ حکم کے مطابق، پرچے کی مواد کے بارے میں مختلف ذرائع سے شکایات موصول ہونے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔

23 دسمبر 2025 کو جاری حکم میں جامعہ انتظامیہ نے کہا کہ مجاز اتھارٹی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اسے استاد کی “لاپروائی اور غیر محتاط رویے” کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ حکم کے مطابق، تفتیش مکمل ہونے تک پروفیسر شہارے کو معطل رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی، اس معاملے میں قواعد کے مطابق پولیس میں ایف آئی آر درج کروانے کی بھی کارروائی کی جائے گی۔

یونیورسٹی نے اسٹاچیوٹ 37(1) کا حوالہ دیتے ہوئے اس مبینہ فعل کو ایک استاد کے لیے “نامناسب رویہ” قرار دیا ہے۔ معطلی کے دوران پروفیسر شہارے کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہوگا اور انہیں مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر شہر چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تاہم، یونیورسٹی انتظامیہ نے اب تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ پرچے کے خلاف درج شکایات کی نوعیت کیا تھی یا سوال کے کس حصے کو اعتراضات کا باعث سمجھا گیا۔

اس کارروائی کے بعد طلبہ، سابق طلبہ اور اساتذہ میں ناراضگی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کی سابقہ طالبہ حمیرہ آفتاب نے کہا کہ امتحان میں پوچھا گیا سوال موضوع کے ساتھ براہِ راست متعلق تھا۔ انہوں نے کہا، “اگر سماجی مسائل کی تعلیم میں اقلیتوں پر ہونے والے ظلم پر بات نہیں ہوگی تو اس نصاب کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔”

جامعہ کے ایک استاد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ واقعہ یونیورسٹیوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور اختلاف رائے کو دبانے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، “آج سوال پوچھنا بھی خطرناک ہو گیا ہے۔ علمی اداروں میں آزاد سوچ اور تنقیدی مباحثے کی روایت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔”

اس معاملے میں فراترنیٹی موومنٹ کی جامعہ یونٹ نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے استاد کی معطلی کو علمی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو طلبہ اور اساتذہ مل کر وسیع پیمانے پر احتجاج کریں گے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں یہ واقعہ صرف ایک استاد کی معطلی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی خودمختاری، اظہارِ رائے کی آزادی اور علمی آزادی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو