کرسمس سے پہلے تلنگانہ کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کی جانب سے کرسمس تقاریب کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس رہنما سونیا گاندھی کا نام لینے پر بی جے پی نے سخت اعتراض کیا ہے۔ بی جے پی نے کانگریس پر خوشامد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسیحی برادری کی توہین ہوئی ہے۔
ہفتہ کے روز حیدرآباد کے لال بہادر شاستری اسٹیڈیم میں تلنگانہ حکومت کے زیر اہتمام منعقدہ کرسمس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا، “جو لوگ دوسرے مذاہب کی توہین کرتے ہیں، انہیں سزا دینے کے لیے اسمبلی میں نیا قانون لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ قوانین میں ترمیم کر کے مذہبی نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پہلے ہی نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف اقدامات کر چکی ہے۔
ریونت ریڈی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ کرسمس جیسے مذہبی پروگرام میں کسی سیاسی رہنما کو کریڈٹ دینا نامناسب ہے۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ کانگریس مذہبی تقاریب کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس سے مسیحی برادری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
وہیں کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا بیان مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے جذبے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے دیا گیا تھا، نہ کہ کسی برادری کی توہین کے لیے۔
اس پورے معاملے نے تہوار سے قبل ریاست کی سیاست میں گرماہٹ پیدا کر دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر سیاسی بیان بازی میں مزید تیزی آنے کے امکانات ہیں۔