بہار اسمبلی انتخابات میں ایک بھی نشست حاصل نہ کر پانے کے بعد جن سوراج پارٹی کے بانی اور انتخابی حکمتِ عملی ساز پرشانت کشور نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں پرشانت کشور کے کانگریس میں شامل ہونے اور ان کی پارٹی جن سوراج کے ممکنہ انضمام سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جمعہ، 12 دسمبر 2025 کو دہلی میں واقع 10 جن پتھ میں راہل گاندھی اور پرشانت کشور کے درمیان تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی موجود تھیں۔ بات چیت کو اگرچہ غیر رسمی بتایا جا رہا ہے، تاہم اس کے سیاسی مضمرات نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نشست میں اس پہلو پر بھی ابتدائی سطح پر گفتگو ہوئی کہ اگر جن سوراج کا کانگریس میں انضمام ہوتا ہے تو اس کی شکل و صورت اور طریقۂ کار کیا ہوگا۔ اگرچہ اس سلسلے میں کسی باضابطہ فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی گفت و شنید کو سیاسی اعتبار سے خاصا اہم مانا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران بہار کے حالیہ انتخابات کے علاوہ اتر پردیش اور مغربی بنگال کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ خاص طور پر بہار انتخابات میں الیکشن کمیشن کے کردار، ایس آئی آر سے جڑے تنازعات اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس کے ساتھ مبینہ ووٹ چوری، منصفانہ انتخابات اور جمہوری اداروں کی ساکھ جیسے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سال 2027 میں اتر پردیش، مغربی بنگال، پنجاب سمیت کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان حکمتِ عملی پر مبنی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس ملاقات کو کانگریس کی آئندہ انتخابی حکمتِ عملی اور تنظیمی توسیع کے نقطۂ نظر سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ پرشانت کشور اور کانگریس کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ سال 2021 میں پرشانت کشور نے کانگریس کو ملک بھر میں دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے ایک مفصل تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بعد 2022 میں انہوں نے 10 جن پتھ میں واقع سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے ایک پریزنٹیشن بھی دی تھی۔
تاہم اسی سال کانگریس نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے تشکیل دی گئی ایک ٹیم میں پرشانت کشور کو شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی جماعت جن سوراج کے ذریعے بہار کی سیاست میں نئی شروعات کی، لیکن حالیہ انتخابی نتائج نے ان کی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
اب راہل گاندھی سے ہونے والی اس ملاقات نے ایک بار پھر کانگریس اور پرشانت کشور کے درمیان ممکنہ شراکت داری سے متعلق بحث کو تقویت دے دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ ملاقات محض تبادلۂ خیال تک محدود رہتی ہے یا بھارتی سیاست میں کسی بڑے سیاسی موڑ کی بنیاد بنتی ہے۔