کیرالا میں سوشَل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے آئندہ تین درجوں والے مقامی اداروں کے انتخابات میں کسی بھی سیاسی اتحاد سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں 9 اور 11 دسمبر کو ہونے والے ان انتخابات میں پارٹی تقریباً چار ہزار امیدوار کھڑے کرے گی۔
پارٹی کے ریاستی صدر نے بتایا کہ ایس.ڈی.پی.آئی کا مقصد مقامی اداروں میں اپنی سیاسی موجودگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ ان کے مطابق، “آزادانہ طور پر انتخابات لڑنا ہی ہماری تنظیمی قوت اور عوامی بنیاد کو بڑھانے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔”
ایس.ڈی.پی.آئی کا کہنا ہے کہ 2020 کے مقامی انتخابات میں اس نے پورے ریاست میں 103 نشستیں جیتی تھیں، جو 2015 کے مقابلے میں خاصی بڑھوتری تھی۔ 2010 میں پہلی بار انتخابی میدان میں اترنے والی یہ پارٹی اسے اپنے تدریجی سیاسی توسیع کی علامت قرار دیتی ہے۔ اس مرتبہ پارٹی گرام پنچایت، بلاک پنچایت، ضلع پنچایت، بلدیات اور میونسپل کارپوریشن — ہر سطح پر امیدوار کھڑا کر رہی ہے۔
حالیہ ریاستی سکریٹریٹ میٹنگ میں پارٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ یو.ڈی.ایف اور ایل.ڈی.ایف دونوں کو سخت چیلنج دے گی۔ البتہ مقامی سطح پر چند حکمتِ عملی پر مبنی سمجھوتے ممکن ہو سکتے ہیں، لیکن بی جے پی کے ساتھ کسی بھی طرح کا اتحاد کرنے کے امکان کو پارٹی نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
انتخابات کے لیے ایس.ڈی.پی.آئی نے کثیر سطحی حکمتِ عملی تیار کی ہے، جس میں کچھ مخصوص حلقوں میں آزاد امیدواروں کی تائید بھی شامل ہے، جہاں پارٹی سمجھتی ہے کہ اس کا اثر نہ صرف نتائج بلکہ مقامی انتظامیہ کی سمت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
پارٹی نے کنور ضلع کی مُژوپّیلنگاڈ پنچایت اور ایریٹی میونسپلٹی، جبکہ ملاپّورم ضلع کی پونملہ، چرییمنڈم، اتھونّاڈ اور کَوَنور پنچایتوں کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ جنوبی اضلاع کے کئی دیگر حلقوں میں بھی پارٹی اپنی گرفت بڑھانے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔
ملاپّورم ضلع میں ایس.ڈی.پی.آئی تقریباً 500 نشستوں پر انتخابی مقابلے میں ہے۔ ضلع پنچایت کے لیے جن امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں چَیمّلا یوسف علی (تریکّالنگوڈ)، مِرشَن مُنڈوژی (وژکّڈ)، این سی اے کبیر (تینّیپالم)، سمیرہ ٹیچر (مَنگَلم)، یاسر پوکّوٹُّمپڈم (وژکّڈوو)، حسنہ مجیب (تھَوَنور), حنیفہ کَرُمبِل (وینگارہ) اور کے سی سمیر (پُتھنّتھانی) شامل ہیں۔
ضلع میں پارٹی 400 سے زیادہ گرام پنچایت وارڈوں اور 50 بلاک ڈویژنوں میں بھی امیدوار کھڑا کر رہی ہے۔
ایس ڈی پی آئی قائدین کا کہنا ہے کہ وہ “حقداروں کو حق” اور “بدعنوانی سے پاک حکمرانی” کے نعروں کے ساتھ عوام سے رجوع کریں گے۔ ان کے مطابق پارٹی ایسی ترقیاتی فکر اور عملی منصوبے پیش کرے گی جو مقامی حکمرانی کو نئی سمت عطا کریں گے۔