اتر پردیش کے دادری کے بسہڑہ گاؤں میں 28 ستمبر 2015 کو پیش آنے والے مشہور محمد اخلاق لنچنگ کیس میں اتر پردیش حکومت نے تمام دس ملزمان کے خلاف درج فوجداری مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے مجرمانہ کارروائی کے ضابطے (CrPC) کی دفعہ 321 کے تحت عدالت میں باضابطہ درخواست دائر کی ہے، جس میں استغاثہ کو کیس واپس لینے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
اخلاق کی بھیڑ کے ہاتھوں قتل نے اُس وقت پورے ملک میں شدید ردعمل پیدا کیا تھا۔ بھیڑ نے اخلاق کے گھر پر گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ کے سبب حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں اخلاق جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جبکہ ان کے بیٹے دانش شدید زخمی ہوئے تھے۔ کیس میں کل 15 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا، جن میں سے 10 مرکزی ملزمان کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، فساد، مارپیٹ، دھمکی اور دیگر دفعات میں مقدمات درج تھے۔
حکومت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیس میں “گواہوں کے بدلتے بیانات”، “ملزمان اور متاثرہ خاندان کے درمیان پہلے سے کسی دشمنی کی غیر موجودگی” اور “واقعے میں کسی فائر آرمی کے استعمال کا ثبوت نہ ہونا” کی وجہ سے مقدمہ عدالتی طور پر قابل دفاع نہیں رہا۔ حکومت نے سماجی ہم آہنگی قائم کرنے اور معاملے کو “طویل عرصے سے زیر التوا” قرار دیتے ہوئے مقدمہ واپس لینے کو مناسب ٹھہرایا ہے۔
اس درخواست پر فیصلہ سُورج پور کی مقامی عدالت کرے گی۔ عدالت کی اجازت ملنے تک تمام ملزمان پر مقدمہ باضابطہ طور پر واپس نہیں سمجھا جائے گا۔ عدالت میں اگلی سماعت دسمبر کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں حکومت کے اس اقدام پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اسے “بھیڑ پر تشدد کو فروغ دینے والا پیغام” قرار دیا ہے۔ جبکہ اخلاق کے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ انصاف کی امید دوبارہ کمزور ہو گئی ہے۔
دادری واقعہ گزشتہ دہائی سے ملک میں بھیڑ پرتشدد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور قانون و نظم کے حوالے سے مباحثے کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ ملزمان کے مقدمات واپس لینے کا عمل ایک بار پھر اس کیس کو قومی خبروں کی زینت بنا گیا ہے۔ اب عدالت کا فیصلہ ہی اس حساس معاملے کی آئندہ سمت طے کرے گا۔