سیتا مڑھی (مظفر عالم/اِنصاف ٹائمس)
بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے قبل سرسنڈ اسمبلی حلقہ میں سیاسی ماحول گرم ہے۔ حلقہ میں اس بار بھی مقابلہ زیادہ تر عظیم اتحاد کے امیدوار اور سابق رکنِ اسمبلی ابو دوجانہ اور جنتا دل یونائیٹڈ کے امیدوار کے درمیان متوقع ہے۔ انتخابی گفتگو میں اس وقت ابو دوجانہ کی سابقہ میعاد میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کا تذکرہ نمایاں ہے۔
سرکاری و مقامی ذرائع کے مطابق ابو دوجانہ کی 2015 تا 2020 کی میعاد میں 1300 کروڑ روپے سے زائد کے مختلف ترقیاتی منصوبے منظور یا مکمل کیے گئے۔ ان منصوبوں میں دیہی و رابطہ سڑکوں کی تعمیر و توسیع، خستہ حال پلوں کی مرمت، مقامی مدرسے کی چار دیواری، ایک لائبریری کی تعمیر اور ایک مندر کی چار دیواری شامل بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی سطح پر سرکاری دفاتر میں رشوت خوری اور غیر ضروری افسر شاہی میں کمی کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔
سرسنڈ حلقہ نیپال سرحد کے نزدیک واقع ہے، جہاں باگمتی اور ادھوارہ ندیوں کے سبب سیلاب ہر سال بڑے پیمانے پر فصل اور رہائشی آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ سیلاب سے تحفظ، سڑک و پلوں کی بہتری، صاف پانی، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور روزگار کی دستیابی اس حلقہ کے مستقل انتخابی مسائل رہے ہیں۔ بڑے صنعتی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے علاقے کے نوجوان بڑی تعداد میں بیرونِ ریاست ملازمت کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔
انتخابی لحاظ سے حلقہ میں یادو، مسلم اور انتہائی پسماندہ طبقہ (EBC) کے ووٹرز کی تعداد فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے، جبکہ راجپوت اور دیگر اعلیٰ ذاتوں کی بھی معتبر موجودگی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ووٹ بینک کو متحرک رکھنے اور سماجی توازن قائم کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہیں۔
حالیہ عوامی گفتگو میں ترقیاتی کارکردگی، سیلاب سے مستقل حل، اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کو ووٹروں کے فیصلے کا مرکزی پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا گزشتہ دور کی ترقیاتی کارکردگی کی بنیاد پر ابو دوجانہ کو دوبارہ موقع دیا جائے یا ووٹر کسی نئے متبادل کو منتخب کریں۔
انتخابی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سا امیدوار ان مسائل کے حل کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔