انصاف ٹائمس ڈیسک
اسمبلی انتخاب کے درمیان مالے کے جنرل سکریٹری کامریڈ دیپانکر بھٹاچاریہ نے اتوار کو پٹنہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں واضح تبدیلی کی لہر نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار عوام نے مہنگائی، گیس سلینڈر کی قیمت، بجلی، کسانوں کی سلامتی اور خواتین کو قرض کے بوجھ سے نجات جیسے مسائل کو مرکز میں رکھ کر ووٹ ڈالا ہے۔
دیپانکر نے بتایا کہ 22 اکتوبر سے 6 نومبر کے درمیان مالے نے پورے بہار میں 50 سے زیادہ عوامی ریلیاں کیں اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کی لڑائی کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا زبردست ردعمل ملا، خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کا۔ ہر ووٹ کے لیے لوگوں نے سنجیدگی سے کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 65.08 فیصد کی ریکارڈ پولنگ اس بات کی علامت ہے کہ عوام تبدیلی چاہتی ہے اور حکومت مخالف لہر تیز ہے۔ “جب عوام تبدیلی چاہتے ہیں تو وہ پولنگ میں صاف دکھائی دیتا ہے۔”
مالے کے جنرل سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں پرواسی مزدوروں اور غریب طبقے کے نام ووٹر لسٹ سے غائب تھے، اس کے باوجود انہوں نے بوگس ووٹنگ کی کوششوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ایس آئی آر نے ووٹ کے حق کے بارے میں بیداری بڑھائی ہے، لوگوں نے اپنے ووٹ کی حفاظت کی ہے۔”
دیپانکر نے بی جے پی اور این ڈی اے لیڈروں کی تقریروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سمیت اعلیٰ لیڈروں کی زبان دھمکی آمیز تھی۔ انہوں نے سوال کیا، “اگر واقعی ترقی ہوئی تھی تو وزیر اعظم کو انڈر ورلڈ جیسی زبان استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟”
پریس کانفرنس میں موجود مالے کی سینئر رہنما مینا تیواری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خواتین کو دیے گئے دس ہزار روپے کا وہ اثر انتخاب میں نظر نہیں آیا جس کی حکمراں جماعت کو امید تھی۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال کی حکومت کے خلاف خواتین میں ناراضگی صاف تھی۔ صرف 20 سے 25 فیصد خواتین نے کہا کہ انہیں رقم ملی اور وہ بھی بے ضابطگیوں کے ساتھ۔ ان کے مطابق خواتین کے قرض کے خلاف تحریک نے نعرہ دیا کہ “دس ہزار میں دم نہیں، قرض معافی سے کم نہیں۔”
دیگھا سے مالے امیدوار دیویا گوتم نے کہا کہ نوجوانوں نے اس انتخاب میں تبدیلی کی لڑائی کو مضبوطی دی۔ “بہار کی عوام اب تبدیلی چاہتی ہے اور یہ اس انتخاب میں صاف نظر آیا۔”
بہار کا انتخابی ماحول اس وقت واضح طور پر مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ مالے قائدین کا دعویٰ ہے کہ اس بار ووٹ محض ووٹنگ کے لیے نہیں، بلکہ تبدیلی کے لیے ڈالا گیا ہے۔ اب نظریں نتائج پر ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ آیا یہ تبدیلی کی لہر اقتدار تک پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔