انصاف ٹائمز ڈیسک
جنتا دل (یونائیٹڈ) کو آج ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دربھنگہ ضلع کے جے ڈی یو کے سینئر رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنوں نے پیر کے روز پٹنہ میں قومی جنتا دل (آر جے ڈی) کے ریاستی دفتر واقع کرپوری سبھا گرہ میں منعقدہ تقریبِ “مہا مِلن” میں پارٹی کی رکنیت اختیار کرلی۔ اس پروگرام کی صدارت آر جے ڈی کے ریاستی صدر منگنی لال منڈل نے کی۔
دربھنگہ جے ڈی یو کے سابق ضلع صدر گوپال منڈل، ریاستی جنرل سیکریٹری چاند انصاری، سبیلا خاتون، نند کشور رائے، سنیل یادو اور متعدد دیگر رہنماؤں نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ آر جے ڈی میں شمولیت اختیار کی۔
اس موقع پر عبدالباری صدیقی (قومی پرنسپل جنرل سکریٹری)، سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی، بھو لا یادو، للت یادو، ڈاکٹر تنویر حسن، رن وِجے ساہو، ڈاکٹر انور عالم (ایم ایل اے)، راماشیش یادو، رامنیواس پرساد، سیتارام یادو، اعجاز احمد (ریاستی ترجمان) اور متعدد آر جے ڈی قائدین موجود تھے۔
آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کو پارٹی کی رکنیت کی رسید، آر جے ڈی کے نشان والے گمچھے اور ٹوپیاں کے ساتھ لالو پرساد یادو کی سیاسی زندگی پر مبنی کتاب “گوپال گنج ٹو رائیسینا” پیش کی گئی۔
ریاستی صدر منگنی لال منڈل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب انتہائی پسماندہ طبقہ (EBC) نتیش کمار کی حکومت سے پوری طرح ناراض ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا “ڈبل انجن حکومت نے 16 فیصد ریزرویشن میں چوری کر کے انتہائی پسماندہ، پسماندہ، دلت اور آدیواسی طبقات کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ مل کر ان طبقوں کے حق و حقوق کو کمزور کیا ہے۔”
اس موقع پر عبدالباری صدیقی، علی اشرف فاطمی، بھو لا یادو اور دیگر رہنماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ “بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ بدعنوانی کو اب ’صداقت‘ اور ’شرافت‘ کا روپ دے دیا گیا ہے۔ ریاست میں جرائم کا بول بالا ہے اور انتہائی پسماندہ طبقہ مسلسل ظلم و جبر کا شکار ہو رہا ہے۔”
مقررین نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ سماج میں نفرت پھیلا کر بھائی کو بھائی سے لڑوانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ لالو یادو کے نظریات اور تیجسوی یادو کی قیادت کو گھر گھر پہنچایا جائے تاکہ بہار میں تبدیلی کی سیاست کو مزید تقویت ملے۔
تقریب میں اوم پرکاش کھیڑیا، چندیشور پرساد سنگھ، ببلو مالاکار، راجیش پال، اوپیندر چندرونشی، گنیش کمار یادو اور وکرانت رائے سمیت کئی کارکنان موجود تھے