انصاف ٹائمس ڈیسک
پانچ اکتوبر کو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (RSS) کے رضاکاروں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے گیٹ نمبر 7 اور 8 کے سامنے ایک مارچ نکالا۔ یہ مارچ RSS کے صد سالہ جشن کے موقع پر منعقد کیا گیا۔ رضاکاروں نے سفید شرٹس اور گہرے رنگ کی پتلون پہنی ہوئی تھی، اور ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے روڈ پر قطار میں چلتے ہوئے جسمانی تربیت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران دہلی پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔
مارچ کے بعد، جامعہ کے طلبہ اور مختلف طلبہ تنظیموں نے اس اقدام کی مذمت کی۔اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے اسے جامعہ کے ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش قرار دیا۔ طلبہ تنظیم ‘اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا’ (SFI) نے اس مارچ کو دھمکی دینے اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے اس اقدام کو جامعہ کی مذہبی اور ثقافتی تنوع کے خلاف قرار دیا۔
اس واقعے کے بعد، جامعہ انتظامیہ نے کیمپس میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور طلبہ سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ یہ واقعہ دہلی کی تعلیمی اداروں میں مذہبی اور ثقافتی شناخت کے مسائل پر ایک نئی بحث کا آغاز کر رہا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر RSS کا مارچ نہ صرف ایک ثقافتی تقریب تھا بلکہ اس نے یونیورسٹی کے احاطے میں مذہبی اور ثقافتی شناخت کے مسائل پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔