انصاف ٹائمس ڈیسک
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے معروف ماحولیاتی کارکن اور رمن میگسسی ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ دونوں جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے کہا، “سونم وانگچک کی گرفتاری آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے، جس کی حفاظت آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت کی گئی ہے۔”
وانگچک کو 26 ستمبر کو لیہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس سے پہلے 24 ستمبر کو لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی شیڈول کے تحت مقامی قبائلی تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے کے لیے مظاہرے ہوئے تھے۔ ان مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے۔
حکومت کا الزام ہے کہ وانگچک نے مظاہروں کو ہوا دینے والے بیانات دیے۔ تاہم ان کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت طویل عرصے سے لداخ کی حقیقی مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے۔
وزارت داخلہ نے وانگچک کی تنظیم SECMOL کا FCRA لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ وزارت نے الزام لگایا کہ تنظیم نے غیر ملکی فنڈنگ کا غلط استعمال کیا۔ وانگچک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کے پرامن کام کو روکنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سیاسی جماعتوں کے ردعمل
ایس ڈی پی آئی: حکومت سے اپیل کہ وہ لداخ کی طویل مدتی مطالبات پر فوری کارروائی کرے اور وانگچک کی رہائی یقینی بنائے۔
کانگریس (راہل گاندھی): مرکزی حکومت پر لداخ کی ثقافت اور روایات پر حملہ کرنے کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ خطہ چھٹی شیڈول میں شامل کیا جائے۔
عام آدمی پارٹی (اروِند کیجریوال): اس کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا اور اسے آمریت قرار دیا۔
متحدہ کسان محاذ (SKM): این ایس اے واپس لینے اور وانگچک کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے کہا کہ ان کے شوہر ہمیشہ پرامن اور غیر متشدد طریقے سے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے گرفتاری کو “سیاسی سازش” قرار دیا اور تمام الزامات کی مکمل تردید کی۔
سونم وانگچک کی گرفتاری نے لداخ میں جاری تحریک کو قومی مباحثے کا مرکز بنا دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور شہری تنظیمیں اسے جمہوری اقدار پر حملہ قرار دے رہی ہیں۔ اب ملک کی نظریں مرکزی حکومت پر ہیں کہ وہ اس تنازعہ کو کس طرح حل کرتی ہے۔