انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کے نالندہ ضلع میں غیرت کے نام پر قتل کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ نورسرائے تھانہ علاقے کے نونیا وِگھا گاؤں میں اہلِ خانہ نے محبت کے رشتے کے سبب 19 سالہ لڑکی کو قتل کر کے اس کی لاش کو دریا کے کنارے تین فٹ گہرے گڑھے میں دفن کر دیا۔ واقعے کا انکشاف اُس وقت ہوا جب لاش سے بدبو پھیلنے لگی اور آوارہ کتوں کو بورا گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا۔
ہفتے کی صبح گاؤں والوں نے دریا کنارے سے مشکوک بدبو محسوس کی۔ وہاں پہنچنے پر دیکھا کہ کتے کسی بوری کو کھینچ رہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور مجسٹریٹ موقع پر پہنچے اور گڑھا کھود کر لاش برآمد کی گئی۔ متوفیہ کی شناخت مایاوَتی کماری (19) کے طور پر ہوئی۔
گاؤں والوں کے مطابق لڑکی کا گاؤں کے ہی ایک نوجوان سے عشق تھا۔ وہ دو بار گھر سے بھاگ بھی چکی تھی۔ اس دوران اُس کے حاملہ ہونے کی بات بھی سامنے آئی تھی۔ اسی کو لے کر گھر والوں میں ناراضگی اور بدنامی کا خوف تھا۔ اسی وجہ سے اہلِ خانہ نے سازش کے تحت قتل کر کے لاش کو بوری میں بند کر کے گڑھے میں دفن کر دیا۔
پولیس تفتیش میں متوفیہ کے چھوٹے بھائی نے پورا معاملہ کھول دیا۔ واقعے کے بعد سے گھر والے گاؤں چھوڑ کر فرار ہیں۔ جائے وقوعہ سے پولیس کو انجیکشن، رسی اور دیگر مشکوک سامان بھی ملے ہیں۔ شبہ ہے کہ لڑکی کو زہریلا انجیکشن دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
صدر ڈی ایس پی سنجے کمار جیسوال نے بتایا کہ لاش کو 3–4 دن پہلے دفنایا گیا تھا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی اصل وجہ موت واضح ہو سکے گی۔ فارنسک ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کو بھی جانچ میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس فراری رشتہ داروں کی تلاش کر رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سماج میں بڑھتے غیرت کے نام پر قتل اور عورتوں کی آزادی پر عائد پابندیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک “عزت” کے نام پر بیٹیوں کی جان لی جاتی رہے گی؟