انصاف ٹائمس ڈیسک
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کے روز قبائلی زمین سے جڑے کروڑوں روپے کے مبینہ گھوٹالے کی تفتیش میں بڑی کارروائی کی۔ ایجنسی نے رانچی اور دہلی میں ایک ساتھ کل نو ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔
معلومات کے مطابق، رانچی میں کانکے ریزورٹ، اشوک نگر، کڈرو، سکھدیونگر اور بریاتو سمیت چھ مقامات پر چھاپے مارے گئے، جبکہ دہلی میں تین بااثر زمین دلالوں اور ان کے ساتھیوں کے احاطوں میں ای ڈی نے تلاشی لی۔
یہ معاملہ رانچی کے کانکے بلاک کے چاما موجہ سے متعلق ہے، جہاں مبینہ طور پر قبائلی ملکیت والی زمین کو جعلی دستاویزات کے ذریعے “عام کٹیگری” میں درج کرایا گیا اور پھر بھاری قیمت پر فروخت کیا گیا۔ ایجنسی کو شبہ ہے کہ اس لین دین سے حاصل شدہ رقم کو رئیل اسٹیٹ اور دیگر سرمایہ کاری کے ذریعے منی لانڈرنگ کر کے جائز دکھایا گیا۔
ای ڈی کی تحقیقات کے دائرے میں زمین مافیا کمليش کمار سنگھ اور کانکے ریزورٹ کے مالک بی کے سنگھ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، چھاپے کے دوران بی کے سنگھ کے قریبی گنجن سنگھ کے ٹھکانے سے تقریباً 25 لاکھ روپے نقد اور کئی اہم دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل آلات اور زمین سے متعلق ریکارڈ بھی ایجنسی نے قبضے میں لے لیے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ای ڈی نے اس گھوٹالے کے سلسلے میں قدم اٹھایا ہے۔ گزشتہ سال 10 جولائی کو بھی ایجنسی نے متنازعہ پلاٹوں کی جانچ کے لیے کانکے علاقے کا دورہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ، حال ہی میں جھارکھنڈ پولیس نے بھی اس معاملے کو سی آئی ڈی کے سپرد کیا تھا تاکہ سرکاری اہلکاروں اور نجی افراد کی مبینہ ملی بھگت کی چھان بین کی جا سکے۔
ای ڈی نے یہ کارروائی منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ (PMLA) کے تحت کی ہے۔ ایجنسی اب برآمد شدہ دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات کی گہری جانچ کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ تحقیقات میں مزید بڑے نام سامنے آنے کے امکانات ہیں۔