انصاف ٹائمس ڈیسک
کرناٹک حکومت نے آج سے ریاست گیر ذات پر مبنی سماجی و تعلیمی سروے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ سروے 7 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اس میں تقریباً 1.75 لاکھ گنتی کرنے والے، جن میں اکثریت سرکاری اسکولوں کے اساتذہ شامل ہیں، ریاست کے 2 کروڑ گھروں اور 7 کروڑ لوگوں سے ڈیٹا اکٹھا کریں گے۔ یہ ریاست کے پچھڑا طبقہ کمیشن کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا بڑا سروے ہے، جبکہ پہلا سروے 2015 میں ایچ۔ کنٹھراج کمیشن کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔
حکومت کے مطابق، اس سروے کا مقصد صرف ذات کے اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی معاشی، سماجی اور تعلیمی صورتحال کو سمجھ کر انہیں یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ کمیشن کے صدر مدھوسودن آر۔ نائیک نے کہا، “سروے صرف ہمارے داخلی استعمال کے لیے ہے، کسی خاص ذات کو ہدف نہیں بنایا جائے گا۔ دلچسپی رکھنے والا شخص اپنی ذات سروے کرنے والے کو خود بتا سکتا ہے۔”
سروے کا طریقہ کار اور تکنیکی پہلو
ہر گھر کا جیو-ٹیگ اور منفرد گھریلو شناخت
راشن کارڈ اور آدھار کی تفصیلات موبائل نمبر سے منسلک
60 سوالات پر مشتمل فارم، جس میں ذات، مذہب، تعلیم، آمدنی اور روزگار کی معلومات شامل
تقریباً ₹420 کروڑ کی متوقع لاگت
بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی مخالفت
اپوزیشن بی جے پی نے اس سروے کو “عوام مخالف” اور “ہندو سماج کو تقسیم کرنے والا” قرار دیا ہے۔ کرناٹک بی جے پی کے رہنما آر۔ اشوک نے کہا، “کانگریس حکومت ذات سروے کے نام پر ہندو سماج کو تقسیم کر رہی ہے۔ بعض ذاتوں کے نام کے ساتھ ‘عیسائی’ کا اضافہ کر کے یہ مذہبی تقسیم کو بڑھا رہی ہے۔”
اس پر وزیراعلیٰ سدھارمیا نے واضح کیا کہ سروے کا مقصد صرف ذات کا نہیں بلکہ سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے الزامات کو “سیاسی طور پر غیر منطقی” قرار دیا۔
کمیونٹیز اور مذہبی اداروں کے ردعمل
ووکّالیگا اور ویرشیو لنگایت کمیونٹیز نے اپنی شناخت واضح طور پر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آدیچنچنگیری ماتھ کے سوامی نرملانند ناتھ نے سروے کی وقت بندی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے مؤخر کرنے کی اپیل کی۔
کچھ برہمن رہنماؤں نے عیسائی ذیلی ذاتوں کو فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔
کرناٹک میں ذات پر مبنی سروے کو لے کر سماجی اور سیاسی بحث گرم ہے، اور مختلف کمیونٹیز نے اپنے موقف کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس منعقد کیے ہیں۔
سروے کے ممکنہ اثرات
ریزرویشن پالیسی میں ترمیم: ذات کے ڈیٹا کی بنیاد پر پچھڑا طبقہ کمیشن ریزرویشن کے تناسب میں تبدیلی کر سکتا ہے۔
فلاحی اسکیموں میں بہتری: ڈیٹا کا استعمال اسکیموں کو زیادہ ہدف بنا کر مؤثر بنانے میں ہوگا۔
سماجی مساوات: یہ سروے ریاست میں عدم مساوات کی نشاندہی اور ان کے ازالے میں مددگار ہوگا۔
کرناٹک کا یہ ذات پر مبنی سروے صرف اعداد و شمار جمع کرنے کا عمل نہیں بلکہ سماجی انصاف اور فلاحی پالیسیوں کے تعین کا ایک اہم آلہ ہے۔ تاہم، سیاسی اور سماجی تنازعات اس کی غیر جانبداری اور کامیابی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔