انصاف ٹائمس ڈیسک
مدھیہ پردیش کے راجگڑھ ضلع میں بھاجپا رہنما مہیش سونی کے بیٹے وِشال سونی نے 1.40 کروڑ روپے کے بھاری قرض سے بچنے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ واقعہ سامنے آیا۔
پانچ ستمبر کو پولیس کو اطلاع ملی کہ کالیسندھ دریا میں ایک گاڑی ڈوب گئی ہے۔ غوطہ خوروں نے گاڑی نکالی تو اس کی شناخت وِشال سونی کے طور پر ہوئی۔ تاہم، گاڑی خالی پائی گئی جس سے پولیس کو شک ہوا اور ایک بڑا ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
وِشال کے والد مہیش سونی نے غفلت کے الزامات لگائے اور دو ہفتوں تک تین مختلف ٹیموں نے دریا کے 20 کلومیٹر علاقے کی تلاشی لی۔ آٹھ دن بعد بھی وِشال کا کوئی سراغ نہ ملا، تو پولیس نے اس کے موبائل کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کیے، جن سے پتہ چلا کہ وہ مہاراشٹر میں ہے۔
پولیس نے وِشال کو مہاراشٹر کے سہنباجی نگر ضلع کے فراداپور تھانہ علاقے سے گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ چھ ٹرک اور دو عوامی گاڑیوں کا مالک ہے، لیکن 1.40 کروڑ روپے سے زائد قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا: “مجھے بتایا گیا تھا کہ اگر مجھے موت کا سرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے تو بینک کا قرض معاف ہو جائے گا۔”
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پانچ ستمبر کی صبح پانچ بجے وِشال نے گوالپورہ کے پاس اپنے ٹرک ڈرائیور سے رقم لی، دریا کے کنارے گیا، اپنی کار کی ہیڈلائٹ بند کی اور گاڑی دریا میں دھکیل دی۔ اس کے بعد وہ اپنے ڈرائیور کی بائیک پر اندور کی طرف روانہ ہوا اور پھر شردی اور شنی شنگانپور گیا۔
جب وِشال کو پتہ چلا کہ پولیس نے اس کا پتہ لگا لیا ہے، تو اس نے اپنے کپڑے پھاڑے، مٹی میں لوٹ گیا اور فراداپور تھانے میں جھوٹی رپورٹ درج کر کے اغوا کا ڈرامہ کرنے کی کوشش کی۔
پولیس نے کہا کہ اپنی موت کا ڈرامہ کرنے والے شخص کو سزا دینے کا کوئی براہِ راست آئینی انتظام موجود نہیں، لہٰذا وِشال کو بغیر کسی رسمی مقدمے کے اس کے خاندان کے سپرد کر دیا گیا۔
یہ واقعہ نہ صرف وِشال سونی کے مالی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اعمال چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ پولیس کی بروقت کارروائی اور تحقیقات نے اس سازش کو بے نقاب کیا اور ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔