انصاف ٹائمس ڈیسک
اتر پردیش کے ضلع شاہجہانپور میں فیس بک پر پیغمبر محمد ﷺ اور قرآن کے خلاف قابل اعتراض پوسٹ کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ پولیس نے پوسٹ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن اس کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے تقریباً 200 افراد کے خلاف بھی سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کر دیے گئے ہیں، جس سے مسلم کمیونٹی میں شدید غصہ پھیل گیا ہے۔
یہ واقعہ 12 ستمبر کا ہے، جب کرشنا کیشو دکشت نامی شخص، جو خود کو صحافی بتاتا ہے، نے فیس بک پر پیغمبر اور قرآن کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا۔ پوسٹ سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ صدر بازار تھانے کے باہر جمع ہو گئے اور ملزم پر نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (NSA) لگانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دکشت کو گرفتار کیا اور 295A اور 153A سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
لیکن اگلے ہی دن صورتحال پلٹ گئی۔ ہندوتو تنظیموں نے مسلم احتجاج کے خلاف مظاہرے کیے اور ان کو “قانون و نظم کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے شکایت درج کرائی۔ اسی بنیاد پر پولیس نے تقریباً 200 نامعلوم مسلمانوں کے خلاف FIR درج کر دی۔ ان کے خلاف بھارتی فوجداری قانون کی متعدد دفعات اور کرمنل لا اًمینڈمنٹ ایکٹ، 1932 کی دفعہ 7 کے تحت کیس بنایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے تھانے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور کچھ جگہوں پر عوامی املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔ ایس پی راجیش دویدی نے کہا، “ہم نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ کوئی بھی قابل اعتراض تبصرہ سوشل میڈیا پر نہ ڈالیں اور کمیونل ہم آہنگی قائم رکھیں۔”
کمیونٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ احتجاج زیادہ تر پرامن تھا اور ان کا مطالبہ صرف ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا تھا۔ ایک مقامی رہائشی نے کہا، “اصل مجرم وہی ہے جس نے ہمارے پیغمبر کی توہین کی، لیکن پولیس نے ہمیں ہی سزا دی۔”
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے اتر پردیش میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے رجحان کے طور پر بیان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن آف سول رائٹس کے قومی سیکرٹری ندیم خان نے کہا، “یہ پچھلے ایک ہفتے میں تیسرا واقعہ ہے جب جرم مسلمانوں کے خلاف ہوا، لیکن مقدمہ انہی کے خلاف درج کیا گیا۔ یہ اب ایک واضح پیٹرن بنتا جا رہا ہے۔”
اسی ماہ کانپور اور فیروز آباد میں بھی میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف اجتماعی مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مسلسل کارروائیوں نے کمیونٹی میں گہری تشویش اور ناخوشی پیدا کر دی ہے۔