انصاف ٹائمس ڈیسک
12 ربیع الاول کے موقع پر کانپور کے سید نگر علاقے میں ’’I LOVE MOHAMMAD‘‘ لکھے بورڈ اور عارضی خیمہ لگانے کو لے کر بڑا تنازع کھڑا ہوگیا۔ پولیس نے اسے امن و قانون کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بورڈ اور خیمہ ہٹوا دیے اور 9 نامزد اور 15 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
4 ستمبر کو سید نگر میں 12 ربیع الاول کے پروگرام کے دوران چند نوجوانوں نے سڑک کے کنارے بورڈ اور خیمہ لگایا۔ یہ جگہ اس دروازے کے قریب ہے جہاں سے ہر سال رام نومی کا جلوس گزرتا ہے۔ ہندو تنظیموں نے اس کا سخت احتجاج کیا اور اسے ’’نئی روایت‘‘ اور ’’جان بوجھ کر کی گئی اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔
ڈی سی پی (ویسٹ) دنیش تریپاٹھی نے کہا: ’’عوامی راستے پر کسی نئی روایت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ قدم امن و امان کے لیے خطرہ تھا، اسی لیے بورڈ اور خیمہ ہٹائے گئے۔ کوئی بھی قصوروار بخشا نہیں جائے گا۔‘‘ پولیس نے مقامی علما کو بلا کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بنی تو کارروائی خود کی گئی۔
ایف آئی آر 9 ستمبر کو راوتپور تھانے میں سب انسپکٹر پنکج شرما کی شکایت پر درج کی گئی۔ نامزد ملزمان میں شرافت حسین، بابو علی، محمد سراج، رحمان، اکرام احمد، اقبال، بنٹی، کنّو ’کباری‘ اور سہنور عالم شامل ہیں۔ کیس میں بی این ایس کی دفعات 196 (مذہبی بنیاد پر عداوت پھیلانے)، دفعہ 299 (مذہبی جذبات کو مجروح کرنے) اور غیر قانونی اجتماع جیسی دفعات لگائی گئی ہیں۔
پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی اور کئی ملزمان کی شناخت کی۔ ایس ایچ او کے کے مشرا نے کہا کہ یہ ’’امن بگاڑنے کی نیت سے کی گئی ایک منصوبہ بند کوشش‘‘ تھی۔ فی الحال کچھ ملزمان فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
مقامی مسلم تنظیموں نے اس کارروائی کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے احتجاج درج کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پُرامن طریقے سے مذہبی پیغام والے بورڈ لگانے کو جرم قرار دینا ناانصافی ہے۔ دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ اسے امن و قانون کا مسئلہ بتا رہے ہیں۔