انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار میں اسپیشل سروے کے کنٹریکٹ ملازمین کی برطرفی اور خدمت بحالی کے مطالبے پر جاری تحریک مزید تیز ہوگئی۔ دارالحکومت پٹنہ میں بی جے پی دفتر کے گھیراؤ کے دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ریاستی حکومت نے حال ہی میں ہڑتال پر گئے تقریباً 7,480 کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات ختم کر دی تھیں۔ حکومت کا کہنا تھا کہ بارہا انتباہ کے باوجود ملازمین ڈیوٹی پر واپس نہیں آئے۔
برطرف ملازمین نے “اسپیشل سروے کنٹریکٹ ملازمین و انجینئرز ایسوسی ایشن” کے بینر تلے تحریک شروع کی ہے۔ ان کے بنیادی مطالبات میں خدمات کی بحالی، باقاعدہ تقرری، مساوی کام کا مساوی اجرت، سماجی تحفظ (ESIC/EPFO) کی سہولت اور بقایا جات کی ادائیگی شامل ہیں
جمعرات کو ہزاروں ملازمین نے گردنی باغ سے جلوس نکال کر بی جے پی دفتر کا گھیراؤ کیا۔ پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن نہ ماننے پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔
اس واقعے کی سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری للن چودھری اور جنوادی نوجوان سبھا (DYFI) کے ریاستی صدر منوج چندرونشی نے سخت مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ پُرامن مظاہرے کو دبانے کے لیے لاٹھی چارج کیا گیا، جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔
ادھر ریاستی حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ خالی عہدوں پر نئی تقرری کا عمل جلد شروع کیا جائے گا، لیکن برطرف ملازمین کی بحالی کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔