
چنئی۔(پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے قومی صدر پروفیسر کے ایم قادر محی الدین نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں پر ایک طرف مظالم ڈھارہی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو دھوکہ دیکر بی جے پی میں شامل کرنا چاہتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی چاہے جتنا بھی زور لگالے ہندوستانی مسلمان بی جے پی کی طرف نہیں جائیں گے۔ پروفیسر کے ایم قادر محی الدین نے25مئی 2022کے انگریزی روزنامہ نیو انڈین ایکسپریس، چنئی ایڈیشن میں شائع ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ “سال 2024کا ہدف، بی جے پی پسماندہ ذاتوں کے مسلمانوں کی حمایت کیلئے جال پھیلا رہی ہے”۔ نئی دہلی کے نامہ نگار راجیش کمار ٹھاکور نے اس موضوع پر لکھا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی مسلم پسماندہ ذاتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے مطمئن ہے، بی جے پی کا منصوبہ ہے کہ آئندہ 2024کے انتخابات میں تمام ریاستوں میں ایسے مسلمانوں کے سرکردہ، با اثر اور نوجوانوں کو متحد کرکے آل انڈیا مسلم ووٹ بینک کو وسعت دی جائے۔ پردھان منتری آواس یوجنا، پردھان منتری غریب کلیان انا یوجنا، مفت راشن کی تقسیم، اجوالا یوجنا وغیرہ اور مرکزی حکومت کی اس طرح کی اسکیموں سے پسماندہ مسلم آبادی کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس طرح پسماندہ مسلم ذاتوں کو وزیر اعظم نریندر مودی پر بھروسہ ہے۔اس طرح بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں، بی جے پی نے پسماندہ مسلم ذاتوں کو ذمہ داریاں دینے اور انہیں حکومت میں جگہ دینے کی کوشش کی ہے۔ اترپردیش میں دانش آزاد انصاری کو وزیر بنایا گیا ہے۔ مسلمانوں کو بی جے پی میں شامل کرنے کیلئے یوگی آدتیہ ناتھ کی یہ نئی حکمت عملی ہے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی کا ماننا ہے اور وہ یہ مہم چلارہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کی 5.5%فیصد ووٹ حاصل کی ہے۔ اس طرح راجیش کمار ٹھاکو ر نے لکھا ہے۔ اس پر انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر کے ایم قادر محی الدین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتر پردیش میں رہنے والے 20کروڑ لوگوں میں سے 4کروڑ مسلمان ہیں۔ ان میں سے 5.5%فیصد نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیاہے۔ یوپی میں پسماندہ طبقات کی تعداد 40%فیصد ہے۔ ان میں سے 5.5%فیصد مسلم ووٹر ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یو پی کے 4کروڑ مسلمانوں میں سے ایک فیصد نے بھی بی جے پی کوووٹ نہیں دیا۔ بی جے پی کی چالاکی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے کامیابیوں کا دعوی کرتی ہے جس کو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔بی جے پی چاہے کتنا ہی زور لگالے مسلمان اس کی طرف راغب ہونے والے نہیں ہیں۔ نریندر مودی جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے خود کو ہندو قوم پرست بتایا تھا۔ فروری 2002کے گجرات فرقہ وارانہ فسادات میں 2000سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے۔ مسلمانوں کے 960سے زیادہ گاؤں لوٹ لیے گئے۔ 660سے زائد مساجد اور درگاہ کو تباہ کردیا گیا۔ جب گجرات میں ایسی تباہی اور مظالم ہوئے تو اس وقت گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ہی تھے۔ جب ایک صحافی نے گجرات فسادات میں مسلمانوں کے تباہی کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب میں مسلمانوں کو “دوڑتی کار کے نیچے آنے والے کتے کا پلا کہا تھا”۔جس کی دنیا بھر میں تنقید ہوئی تھی۔ جب گجرات کے وزیر اعلی وزیر اعظم بن گئے توا نہوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ بی جے پی ہزارسالہ غلامی سے بازیابی کیلئے اقتدار میں آئی ہے۔ انہوں نے دراصل ہندوستان میں دو سال کی انگریزوں کی حکومت اور آٹھ سو سال تک مسلمانوں کی حکمرانی کو ہزار سالہ غلامی قرار دیا تھا۔ مودی حکومت 2014سے ملک میں برسر اقتدار ہے۔ ملک کے عوام جان چکے ہیں کہ بی جے پی آر ایس ایس کے نظریہ کے تحت ہندوستان میں ہندو راج جاری رکھنا چاہتی ہے۔ اقلیتی مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتی ہے۔ نریندر مودی کے دو ر اقتدار میں ٭۔تین طلاق کو فوجداری جرم بنادیا گیا۔٭۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے ریاست کو یونین پردیش بنادیا گیا۔ ٭۔ گائے کا گوشت رکھنا فوجداری جرم بن گیا۔٭۔ حجاب پہننے پر پابندی لگائی گئی۔٭۔ مسلمانوں کو جمعہ کے دن کھلے میں عبادت کرنے سے منع کیا گیا۔ ٭۔مسلمانوں کو مندروں کے تہواروں میں کاروبار کرنے سے منع کیا گیا۔٭۔مسلمانوں کو مندر کی دکانوں میں تجارت کی اجازت سے انکار کیا گیا۔٭۔کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹہرایا گیا۔ ٭۔17,18,19دسمبر 2021کو اتر اکھنڈ میں دھرم سنسد کا انعقاد کیا گیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظورکی گئی۔ ٭۔1991کے عبادت گاہ تحفظ ایکٹ کو آج متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ قطب مینار، تاج محل، بھوپال مسجد، متھورا شاہی عید گاہ مسجد،واراناسی گیان واپی مسجدکے تنازعات عدالت میں زیر التوا ہیں۔ ٭۔ شہریت ترمیمی ایکٹ۔ سی اے اے نامی عوام مخالف قانون کی منظوری سے ہندوستان کے آئین میں درج سیکولرازم پر سوالیہ نشان لگادیا گیا۔ ٭۔ اب یہ پروپگینڈہ کیا جارہا ہے کہ ہندوستانی عوام ہندوتوا وادی ہیں اور مسلمان اس کے خلاف ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ملک کے عوام کو تقسیم کرکے لکھا، بولا اور تشہیر کیا جارہا ہے۔ سب سے بڑھ کر بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ایم ایل اے، ایم پی کی حیثیت سے امیدوار نہیں بنایا ہے۔ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلم ایم ایل اے یا کوئی وزیر نہیں ہے۔ بی جے پی اپنے عمل سے یہ ظاہر کررہی ہے کہ ہندوستان ہندو راشٹرا ہے اور اس کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ ان سب باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ اوپر بیان کئے گئے ناانصافی،ظلم ور زیادتیاں 2014سے جاری ہیں۔ کیا وزیر اعظم نے کھبی اس کی مذمت کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہندو اور مسلمان ایک قوم کے طور پر رہتے ہیں؟۔ آج تک انہوں نے ملک کے عوام کے درمیان ایسی بات نہیں کہی ہے!۔وہ اپنے راستے پر چل رہے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان اپنے انداز میں کہتے ہیں کہ “سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا۔ ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستان ہمارا”۔