مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ 2016 سے 2025 کے دوران بھارت کے چیف جسٹس کے دفتر کو سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹ کے موجودہ ججوں کے خلاف کل 8,630 شکایات موصول ہوئیں۔ یہ تمام شکایات عدلیہ کی اندرونی ‘ان-ہاؤس پروسیجر’ کے تحت درج کی گئیں۔
قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال نے یہ معلومات ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ ماتھیسوران وی ایس کے تحریری سوال نمبر 205 کے جواب میں فراہم کیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں سب سے زیادہ 1,170 شکایات موصول ہوئیں۔ سال بہ سال اعداد و شمار اس طرح ہیں: 2016 میں 729، 2017 میں 682، 2018 میں 717، 2019 میں 1,037، 2020 میں 518، 2021 میں 686، 2022 میں 1,012، 2023 میں 977، 2024 میں 1,170 اور 2025 میں 1,102 شکایات۔
حکومت کے مطابق، سال 2020 میں کووِڈ-19 وبا کے اثرات کی وجہ سے شکایات کی تعداد کم رہی، لیکن اس کے بعد مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ دس سال میں شکایات کی کل تعداد میں تقریباً 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ارجن رام میگھوال نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادی اصول ہے اور ججوں کے خلاف کرپشن، جنسی ہراسانی یا دیگر سنگین الزامات کی شکایات کا فیصلہ انتظامیہ نہیں بلکہ عدلیہ خود اپنی قائم شدہ ان-ہاؤس پروسیجر کے تحت کرتی ہے۔
یہ پروسیجر 7 مئی 1997 کو سپریم کورٹ کی منظور شدہ قراردادوں پر مبنی ہے، جس میں عدالتی زندگی کے اصولوں کا اعادہ اور شکایات کے تصفیے کے اندرونی انتظامات شامل ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے ججوں اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کے خلاف شکایات کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اپنے ہائی کورٹ کے دیگر ججوں کے مقدمات دیکھتے ہیں۔
حکومت نے انفرادی شکایات پر کارروائی کی تفصیل عام نہیں کی اور کسی نئے نگرانی نظام یا ہدایات نافذ کرنے کا بھی ذکر نہیں کیا۔ موجودہ خود نظم و نسق والا نظام عدلیہ کی آزادی برقرار رکھتے ہوئے جوابدہی کو یقینی بناتا ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی پر بحث جاری ہے، اور وبا کے بعد شکایات میں اضافہ اس بحث کو مزید بڑھا رہا ہے۔